اسلام میں پچھلے ١٤٠٠ سالوں میں جتنے بھی فرقے بنے ہیں اس کے پیچھے بہت سارے وجوہات ہو سکتے ہیں لیکن
اس کا ایک بہت بڑا ریزن یہ بھی ہے کہ جو علماء حضرات ہیں انہوں نے اپنی سوچ یا اپنے فرقے کی سوچ کو آگے بڑھانے کے لیے اسلام کو فرقے میں تبدیل کر دیا اور بہت سارے فرقے بنے جو شروع میں بھی سنی اور شیعہ کی جو اختلافات تھے وہ تو ایک پولیٹیکل اختلاف تھا، بعد میں اس میں مذہبی اختلاف بھی ڈال دیا گیا لیکن وہ میرا آج کا ٹوپک نہیں ہے-
آج سے ١٤٠٠سال پہلے جو فرقے بنے
وہ علماء اور اس زمانے کے علماء ہماری
دسترس سے بہت آگے ہیں، میں یہ بہتر سمجھتا ہوں کے انکے اپر اس موضوع
پر بات نا کروں،لیکن آج کے جو علماء ہیں جو آج بھی فرقہ بنا رہے ہیں اور ہم
انکے ماننے والے اور عام مسلمانوں کو
آج بھی فرقوں میں ، مسلکوں میں بانٹ رہے ہیں- پچھلے سو دو سو سالوں میں بھی کئی
فرقے بن گئے ہیں تو اس کے پیچھے کیا ریزن رہا ہوگا، جیسا کے اپر ذکر ہوا ہے کے
اسکے پیچھے عالموں، مولویوں کی اپنی خود پرستی ، فرقہ وارانہ سوچ ، اور اپنے فرقے
کی ہر غلط باتوں کا کسی بھی حال میں دفاع کرنا اور اسکو زیدہ سے زیدہ لوگو تک
پھیلانا چاہے کے اسکے لئے کوئی بھی راستہ اختیار کرنا پڑے-
اسلام کے ذریے محمد ﷺ
نے جو دنیا کو پیغام دیا ، اسکے بعد سے آج تک
ظاہر سی بات ہے کہ 1400 سالو میں اب تک اسلام کے متعلق لاکھوں کتابیں لکھی
گئی ہیں تو اس میں اگر آپ بحث میں جائیں
گے تو آپ دیکھیں گے کہ ہر بڑے چھوٹے علماء
نے کچھ ایسی باتیں کی ہیں، اس کو اگر آج کے دور پکڑ کر بحث کیا جائے اور تو ایک
ایک فرقہ بن سکتے ہیں - اپنے فرقے کے حساب سے کچھ نہ کچھ کھوج ہر فرقہ کے کو سہی ثابت کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ مل
جاےگا- اس کے لیے بہت سارے پروف دیے جا سکتے ہیں - یہاں میں آپکو یہ دکھاؤں گا
کہ قرآن میں کس طرح سے تفسیر اور ترجمے کے
ذرئیے قرآن کو بدلنے کی کوشش کی گئی اس کے
مطلب کو بدلنے کی کوشش کی گئی- اس کے لیے سب سے پہلے میں مولانا مودودی کی تفہيم
القرآن کے بارے میں بات کرنا چاہوں گا اس میں ایت نمبر ١٦٩ میں جو انہوں نے ترجمہ
کیا ہے وہ ایک عام فہم ترجمہ ہے جو اور بھی سارے علماؤں نے ترجمہ کیا ہے- تو میں
بتانا چاہ رہا تھا کہ یہ جو ترجمہ ہے وہ عام ترجمہ ہے لکھنے کا طریقہ الگ ہو سکتا
ہے-
-
لیکن جب یہ تفسیر کر رہے ہوتے ہیں تو انہوں نے
یہاں پر جو بہت سارے علماء ہیں ان سے ہٹ کر کے یہ تفسیر کی، یہ بھی میں نہیں کہہ رہا ہوں کہ ان کی
تفسیر غلط ہے یا ان کی تفسیر صحیح ہے میرا
کچھ بھی موقف نہیں ہے میں صرف یہ بتانا چاہ رہا ہوں کہ کس طرح سے تفسیر کی گئی ہے
اپ دیکھیں گے پھر انہوں نے اس تفسیر میں یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ جو لوگ شہید ہو
گئے ہیں وہ مردہ ہے زندہ مت
نہ کہو یہ قران کہتا ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ قران صرف ایک حوصلہ افزائی
کے لیے کہتا ہے تاکہ کوئی بھی ادمی جو جنگ پہ جا رہا ہے جہاد پہ جا رہا ہے وہ ڈریں
نہ اور اس کے جو ماننے والے اس کے جو فیملی ہے
جو جو بچے ہیں وہ لوگ بھی اس سے
نہ کے ،
کہنے کا مطلب یہ ہے باقی تو بہت سارے مطلب نکال لے جا سکتے ہیں تو اس لیے
قران نے یہ بات کہی ہے کہ وہ زندہ ہیں اور انہیں مردہ نہ کہو اچھا یہ ایک بات ہو
گئی- اب ائیں دیکھیں احمد مرزا خان صاحب نےجو ترجمہ بھی کیا ہے لیکن انہوں نے اس میں یہ کہنے کی
اور ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہو گئے ہیں وہ زندہ
ہیں- اب
میں اپ کو ایک اور ایت دکھاتا ہوں اسی سے ملتے جلتے ریلیٹڈ - کہ اس میں مولانا
مودودی جو ہیں وہ کہہ رہے ہیں کہ اس کا ترجمہ اپ اس کا جو تفسیر ہے اپ دوسرے جو
پہلے والے ترجمہ جو تفسیر ہوئی ہے وہاں دیکھ لیں جبکہ اس میں قران شریف میں اللہ
تعالی ایک ایت اور ایڈ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہو گئے
ہیں جو جہاد میں شہید ہوئے انہیں مردہ نہ کہو وہ اللہ تعالی کے پاس زندہ ہیں اور
وہ رزق پاتے ہیں اللہ تعالی نے پھر سے ایک
الگ ایت اتاری ہے اور اس کو رزق پاتے ہیں
یہ ایک الگ سے بات پھر سے کہی جو کہ ایک بہت بڑی بات ہے
مجھے
جہاں تک لگتا ہے اس پہ احمد رضا خان صاحب اور بھی دلیلیں دیتے ہیں اور یہ ثابت
کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہو گئے ہیں وہ زندہ ہیں
باحیات ہیں اور رزق پاتے ہے اور کھاتے پیتے ہیں اور یہ اسی طرح جیتے جیسے ہم لوگ زندگی میں جیتے ہیں ویسے وہ لوگ
بھی جی رہے ہیں-
-
اچھا
اب اپ یہ دیکھیے کہ اللہ تعالی کو دو ایت اتارنے کی کیا ضرورت پڑ گئی اب میں پھر
یہ کہنا چاہوں گا کہ میرا مقصد یہ نہیں ہے کہ غلط کون ہے صحیح کون ہے میں بس اتنا
کہنا چاہوں گا اب کہ دونوں میں سے تو کوئی ایک ہی صحیح ہے یا دونوں غلط بھی ہو
سکتے ہیں یہ پاسیبل ہے اچھا کیونکہ اللہ تعالی کی باتیں ہو سکتا ہے دونوں غلط ہوں
لیکن دونوں صحیح ہیں یہ نہیں ہو سکتا ہے اب اس کے بنا پر یہ ہوگا کہ جب ایک ادمی
مولانا مودودی کا فالوور ہے یا امام احمد رضا خان صاحب کا فالوور ہے تو وہ کبھی
بھی دوسرے فرقے کو صحیح نہیں مانے گا وہ ہمیشہ دوسرے فرقوں اور کافر مانے گا اسی طرح سے اسلام میں فرقے بنے کہ جو
علماء حضرات ہیں انہوں نے اپنی سوچ جو ہے عوام پر اپنے ماننے والوں پر تھوپی ہے
میں اگے بھی کچھ ویڈیو بناؤں گا اس میں یہ بات ثابت کرنے کروں گا کہ کس طرح سے
اسلام کو علماؤں نے ہی ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اج مسلمان جو ہے ہو سکتا ہے کہ میرے ویڈیو
دیکھنے والے فرقہ پرستی نہ کرتے ہوں لیکن عام مسلمان ہم چار لوگوں سے نہیں بنتا ہے
یہ مسلمانوں کی تعداد عربوں میں ہو چکی ہے اج اور ہم لوگ تقریبا 200 کروڑ کے اس
پاس دنیا بھر میں ہیں اور کوئی شیعہ ملک ہے کوئی سنی ملک ہے کوئی وہابی ملک ہے
کوئی کیا ملک ہے اس طرح سے فرقہ پرستی ہو رہی ہے اور قوم کو جس بات پہ فکر مند
ہونا چاہیے علماؤں کو جس بات پہ فکر مند ہونا چاہیے ان سب باتوں کو چھوڑ کر کے یہ
لوگ اپس میں تکفیری کام کر رہے ہیں اپ کا کیا کہنا ہے اس کو بارے میں مجھے بتائیں
اور میں ایک بار پھر بولنا چاہوں میں ایک بار پھر بولنا چاہوں گا کہ میرا کوئی
مقصد یہ نہیں کہ غلط فون ہے صحیح کون ہے میں کوئی بریلوی دیوبندی وہاں بھی نجدی
خارجی لفظی نہیں ہوئی جزاک اللہ خیر
